ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / مجرمانہ مقدمات میں اسپیڈٹرائل:مرکزکوسپریم کورٹ کی پھٹکار، کہا،آپ اپنا کام نہیں کرتے، عدالت کی تنقید کرتے ہیں

مجرمانہ مقدمات میں اسپیڈٹرائل:مرکزکوسپریم کورٹ کی پھٹکار، کہا،آپ اپنا کام نہیں کرتے، عدالت کی تنقید کرتے ہیں

Fri, 30 Nov 2018 02:15:44    S.O. News Service

نئی دہلی:29/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) فوجداری مقدمات میں ا سپیڈ ٹرائل کے معاملے میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگائی ہے اور کہا ہے کہ آپ اپنے لوگوں سے کہیں کہ عدالت کی تنقید بند کریں کیونکہ حکومت خود ہی اپنا کام نہیں کیا کر رہی ہے، آپ مجرمانہ مقدمات میں فوری مقدمے کی سماعت کے لئے کوئی کارروائی نہیں کرتے لیکن عدالتی فیصلے میں تاخیر کے لئے عدالت کی تنقید کرتے ہیں۔جسٹس مدن بی لوکور نے اے ایس جی امن لیکھی سے کہا کہ یہ حیرت انگیز ہے،اپنے لوگوں سے کہیں کہ عدالت کی تنقید بندکریں،کیوں کہ حکومت خود اپنا کام نہیں کر رہی ہے۔وہیں عدالت نے جیلوں میں بند قیدیوں کی بدترین صورت حال پربھی ریاستوں کوپھٹکارلگائی ہے۔سپریم کورٹ نے ریاستوں سے پوچھا کہ وہ کئی نوٹس ملنے کے بعدبھی مرکزی حکومت کو جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں۔وہ ہمیں کیوں نہیں بتا رہے ہیں کہ آکر انہوں نے اپنی ریاستی جیلوں میں قیدیوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کیا کچھ کیا ہے۔عدالت نے کہا کہ گوا اور مہاراشٹر جیسی بہت سی ریاستوں کے وکلاء عدالت میں موجود نہیں ہیں۔عدالت نے ایک سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت جب بھی ریاستوں یا حکومت کو بتاتی ہے، کہ کون سا کام ان کی ترجیح ہے، تو ہمیں ہی یہ کہایا جاتا ہے کہ عدالت ہمیں کیوں کہہ رہا ہے۔یہ پہلا کیس نہیں ہے جب سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کی پھٹکارلگائی ہے۔اس سے قبل عدالت نے ملک بھر میں شیلٹرہوم کے خراب حالات پر مرکز اور ریاستوں کی سرزنش کی تھی۔عدالت نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ شیلٹرہوم کیلئے کوئی کچھ بھی نہیں کرنا چاہتا ہے اور اگر عدالت حکم دیتی ہے تو عدالتی سرگرمی کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے این سی پی سی آر کی سماجی آڈٹ رپورٹ کو ریکارڈ پرلیا۔این سی پی سی آر نے رپورٹ میں کہا کہ اس وقت ملک میں 3540جووینائل تنظیمیں موجود ہیں، جن میں سے 2874چلڈرن ہوم ہیں،صرف 54ہوم کا مثبت جواب ہے۔دوسری طرف، 185شیلٹرہوم جن کابھی ابھی آڈٹ ہواہے،ان میں19کاہی ریکارڈسہی رکھاگیا ہے۔این سی پی سی آر نے کہا کہ سماجی آڈٹ ابھی بھی جاری ہے اور یہ اکتوبر 2018تک چلے گا۔ڈبلیوڈی سی نے عدالت میں کہا تھا کہ انہوں نے شیلٹرہوم کا معائنہ کرنے کے لئے ریاست کے تمام سیکریٹری کو ہدایت دی ہے۔15 ستمبر تک اپنی رپورٹ جمع کرنے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔اس معاملے میں میٹنگ 18ستمبر کو ہوگی۔سپریم کورٹ میں اگلی سماعت 20ستمبر کو ہو گی۔آپ کو بتا دیں کہ گزشتہ دنوں بہار کے مظفر پور کے شیلٹر ہوم میں بہت سی بچیوں سے ریپ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں بھونچال آ گیا تھا۔مظفر پور کیس منظرنامے پرہی تھا کہ اتر پردیش میں ایک ایساہی کیس آگیا۔یہاں معذور لڑکیوں کے ساتھ بھی کچھ اسی طرح ہواتھا۔


Share: